Copyright Policy Privacy Policy Contact Us Instagram Facebook
Top Rated Posts ....
Tweet from Iranian delegation leader Baqir Qalibaf after the talks Tweet from Iranian delegation leader Baqir Qalibaf after the talks Absar Alam shares the latest updates of talks between US and Iran's delegations in Islamabad Absar Alam shares the latest updates of talks between US and Iran's delegations in Islamabad Islamabad: US Vice President JD Vance's media briefing after completing talks with Iran Islamabad: US Vice President JD Vance's media briefing after completing talks with Iran Breaking News: US delegation led by JD Vance reached Pakistan Breaking News: US delegation led by JD Vance reached Pakistan Talat Hussain tells why is President Trump in hurry for peace talks? Talat Hussain tells why is President Trump in hurry for peace talks? US Vice President JD Vance departs to the United States after negotiations US Vice President JD Vance departs to the United States after negotiations

Rauf Klasra's tweet on ceasefire between Iran and USA

Posted By: Zahid, April 08, 2026 | 07:06:19

Rauf Klasra's tweet on ceasefire between Iran and USA


ایران اور امریکہ میں جنگ بندی پر رؤف کلاسرا نے ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا

ٹربل میکر سے پیس میکر تک
ایک بڑی تباہی ٹل گئی۔ ایران اور امریکہ دونوں کو فیس سیونگ درکار تھی جو پاکستان نے دی اور پاکستان کا پیس میکر کا امیج اچانک دنیا میں بہت اوپر چلا گیا ہے۔
لڑائی میں ایک مرحلہ آتا ہے جب دونوں فریق تھک جاتے ہیں لیکن ان کی انا نہیں تھکتی اور انہیں لڑاتی رہتی ہے۔ وہ دونوں لہولہان رکنا بھی چاہتے ہیں، لڑائی ختم بھی کرنا چاہتے ہیں لیکن وہ نہیں کرپاتےکہ لوگ کیا کہیں گے کہ ڈر گئے، بزدل نکلے، سرنڈر کر گئے۔۔
ایران ڈھائی ہزار سال پرانی تہذیب اور بہادری کے زعم پر کھڑا تھا جو اسے جنگ بندی سے روک رہی تھی تو امریکہ کا دنیا کی واحد سپر پاور کا اسٹیٹس خطرے میں تھا۔ ایران اپنی عوام تو امریکہ دنیا کے سامنے خود کو کمزور نہیں دکھانا چاہتا تھا کہ ایران نے دھول چٹا دی ورنہ میرے خیال میں جنگ کب کی ختم ہوچکی تھی۔ اب دونوں اپنی اپنی فیس “عزت اور انا” کے لیے ضد پر کھڑے تھے اور فیس سیونگ کی تلاش میں تھے کہ کوئی نہ سمجھے وہ ہارگئے۔
اپنی اوقات سے زیادہ لوگوں کا سوشل دبائو آپ کو وہ لڑائی جاری رکھنے پر مجبور کرتا ہے اور آپ محض لوگوں پر اپنی بہادری ثابت کرنے کے لیے لڑتے جاتے ہیں اور ادھر ادھر بھی دیکھتے رہتے ہیں کہ شاید کوئی آکر آپ کو برابر ہی سہی لیکن چھڑا دے تاکہ آپ کی عزت بچ جائے کہ اگر روکا نہ جاتا تو پتہ نہیں کیا حشر نشر کر دینا تھا۔
اس وقت کسی قریبی دوست یا رشتہ دار کا کندھا آپ کو چاہئے ہوتا ہے جس کے کندھے پر آپ سارا ملبہ ڈال دیں کہ اگر یہ مجھے نہ روکتا تو دنیا دیکھتی۔ ایسے دوست نعمت ہوتے ہیں جو اپنے اوپر الزام لے لیتے ہیں تاکہ دوست کی انا بچ جائے اور لڑائی بھی رک جائے ورنہ اکثریت تو موبائل فون پر ویڈیو بنانے والوں کی ہوتی ہے۔
پاکستان نے وہی رول ادا کیا ہے کہ ایران اور امریکہ دونوں جنگ سے نکلنا چاہتے تھے۔ انہیں فیس سیونگ درکار تھی تاکہ دونوں کہہ سکیں کہ وہ میدان میں ڈٹ کر کھڑے ہیں چاہے ان کا کتنا نقصان ہی کیوں نہ ہو رہا ہو۔ وہی بات اپنے ملک یا لیڈرشپ کا امیج دنیا کی آنکھوں میں خراب نہ ہو چاہے جو بھی قیمت ہو۔
اس وقت پاکستان کا آگے بڑھ کر ان دونوں کو اپنے کندھے پیش کرنا کہ بھائی آپ ہم پر ملبہ ڈال دیں کہ ہم نے نہیں چھوڑتا تھا لیکن کیا کریں پاکستان ہمارے منت ترلے پر اتر آیا۔ بہت ترلہ ڈالا۔ گھٹنے تک ہاتھ لگائے۔۔ یار کیا کرتے پرانے تعلقات اور دوستی کا واسطہ دیا تو پھر ماننا پڑی ورنہ دنیا دیکھتی۔۔۔
اس سب میں مصر، ترکی، اور چین کا بھی اہم رول ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل جبرل عاصم منیر کا رول ہے اور پاکستان سرخرو ہوا ہے ورنہ امریکہ ایران کے بعد سب سے بڑا نقصان ہمارا ہورہا تھا اور ہونا تھا۔ دنیا تو بھگت ہی رہی تھی۔
مجھے اس سے ہٹ کر ایک اور بڑی خوشی ہے۔ آج تک پاکستان کو دنیا بھر میں ٹربل میکر Trouble maker کے طور پر جانا جاتا تھا، پہلی دفعہ پاکستان پیس میکر Peace maker کے طور پر ابھرا ہے۔۔
ہم نے ان برسوں میں بہت کچھ سنا اور بھگتا ہے کہ کہیں بھی دنیا میں پٹاخہ بجا الزام ہم پر آیا۔ دنیا کے ہر ائرپورٹ پر ہمارے ہاتھ میں سبز پاسپورٹ دیکھ کر مشکوک آنکھیں ہماری طرف اٹھیں۔ سائیڈ پر لے گئے، یا بورڈنگ سے پہلے ہماری تلاشیاں ہوئی کہ ایسے ملک سے ہیں جن کا کم ہی اعتبار ہے۔
لیکن پچھلے سال مئی جنگ کے بعد ہمارے حالات بدلے ہیں۔ پچھلے سال بیرون ملک ٹریول کیا تو ان ستخت مشکوک آنکھوں میں کچھ احترام ابھرتے دیکھا ہے۔ امیگریشن کاونٹر پر پاسپورٹ کو کسی نے الٹ پلٹ کر بار بار نہیں دیکھا۔پہلی دفعہ خود کو کچھ اہم سمجھا جسے دنیا اہم سمجھتی ہے ورنہ تو ان برسوں میں ہر وقت پاکستان اور پاکستانیوں کو عالمی کٹہرے میں ہر وقت انکوائری بھگتتے ہی دیکھا تھا۔
پاکستان اور پاکستانیوں کو ٹربل میکر سے پیس میکر تک کا سفر مبارک ہو۔








Advertisement





Popular Posts Follow Us on Social Media

Join Whatsapp Channel Follow Us on Twitter Follow Us on Instagram Follow Us on Facebook


Comments...