
لاہور: وزیر اعلیٰ شہباز شریف کے حکم کے بعد تحریک انصاف کے حراست میں لئے گئے رہنماؤں اور کارکنوں کو رہا کردیا گیا ہے۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق مال روڈ پر چیئرنگ کراس کے مقام پر تحریک انصاف کے کارکن حلقہ پی پی 150 کے ضمنی انتخاب میں مبینہ دھاندلی کے خلاف بھوک ہڑتالی کیمپ لگا کر احتجاج کر رہے تھے کہ پولیس نے کیمپ کو اکھاڑ دیا اور وہاں موجود کارکنوں کو منتشر کرنے کے لئے ان پر لاٹھی چارج اور شیلنگ کی، مظاہرین کی جانب سے مزاحمت پر پولیس نے درجنوں کارکنوں کو حراست میں لیا گیا، اس موقع پر پولیس نے میڈیا کے نمائندوں کو بھی واقعے کی کوریج سے روکنے کی کوشش کی۔
حراست میں لئے جانے والوں میں تحریک انصاف کے کارکنوں کے علاوہ پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر محمدود الرشید، تحریک انصاف کے صوبائی صدر اعجاز چوہدری، اس حلقے سے ضمنی انتخابات لڑنے والے واجد عظیم اور خاتون رہنما عندلیب عباس بھی شامل تھے۔ حراست میں لئے جانے سے قبل اعجاز چوہدری نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انتخابی دھاندلی کے خلاف احتجاج ہمارا جمہوری حق ہے، ان کا احتجاج پرامن تھا مگر پولیس کی جانب سے کارکنوں پر تشدد اور ان کی گرفتاریوں کے باوجود اپنا آئینی اور جمہوری حق استعمال کرتے ہوئے احتجاج جاری رکھیں گے۔ محمود الرشید کا کہنا تھا کہ گرفتاریاں دے کر لاہور کی جیلیں بھڑ دیں گے لیکن احتجاج کے حق سے دستبردار نہیں ہوں گے۔
دوسری جانب پولیس کا کہنا تھا کہ مال روڈ پر دفعہ 144 نافذ ہے جس کے تحت اس علاقے میں کسی بھی قسم کا احتجاجی مظاہرہ یا ریلی نہیں نکالی جاسکتی، قانون کی خلاف ورزی پر ہی پولیس نے تحریک انصاف کے کارکنوں کو حراست میں لیا تھا۔
وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے تحریک انصاف کے رہنماؤں اور کارکنوں کی گرفتاری کا نوٹس لیتے ہوئے انہیں فوری رہا کرنے کا حکم دیا تاہم ان کا کہنا تھا کہ شہریوں کے معمولات زندگی میں کسی کو مداخلت کی اجازت نہیں اور کسی کو احتجاج کی آڑ میں معاملات زندگی میں رکاوٹ ڈالنے کی اجازت نہیں دیں گے۔
Source
Asad Umar's views on Mohsin Naqvi's statement
Javed Chaudhry joins SAMAA TV, Starts exclusive show with Abdul Sattar Khan
Defence analyst Maria Sultan's views on Pak–Saudi–Turkey trilateral defense pact
Video captured chaos in Japanese hospital mid-surgery during earthquake
Shafi Jan accuses Dr.Shahbaz Gill of stealing Imran Khan's phones and giving him a bugged phone
Major political development as government once again invites PTI for talks













